ممبئی4ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکز اور مہاراشٹر میں حکمران این ڈی اے کی اتحادی شیوسینا نے مہاراشٹر پولیس کے اس دعوے کو غلط بتایا کہ گرفتار کئے گئے پانچ بائیں بازو کارکن مودی سرکارکا دھڑن تختہ کے لیے مبینہ ماؤنواز سازش میں شامل تھے۔شیوسینا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حفاظت سے منسلک مسائل پر بھی سوالیہ نشان لگایا اور کہا کہ ان کی سیکوریٹی مضبوط ہے اور اس سلسلے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں پیر کو شائع اداریہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو یہ کہنا بند کرنا چاہئے کہ یہ نام نہاد ماؤنواز مرکز کی موجودہ حکومت کو پلٹ سکتے ہیں ، یہ سراسر غلط ہے ۔مراٹھی روزانہ میں کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت ملک کے عوام نے پلٹا تھا نہ کہ ماؤنوازوں یا نکسلیوں نے۔ آج حکومتیں جمہوری طریقے سے ہی پلٹی جا سکتی ہیں۔شیوسینا نے کہا کہ پولیس کو ویسے دعوے کرتے وقت تحمل برتنا چاہئے۔پارٹی نے کہا کہ اگر ماؤنواز باغیوں کو حکومتیں پلٹنے کی صلاحیت ہوتی تو وہ مغربی بنگال، تریپورہ، منی پور میں اپنا کنٹرول نہیں گنواتے۔ شیوسینا نے آگاہ کیا کہ پولیس کو زبان پر لگام لگا کر کام کرنا چاہئے، دوسری صورت میں مودی اور بی جے پی کا ایک بار پھر مذاق بنے گا۔ پارٹی نے کہا کہ ایک اور مسئلہ وزیر اعظم کی سیکورٹی کا ہے۔ مودی کی سیکورٹی کافی اعلی سطح کی ہے اور اس سلسلے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی میں بے خوفی تھی۔ اس بے خوفی نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا ؛ لیکن مودی اس طرح کی ہمت نہیں کریں گے۔ اس میں ماؤنوازوں کے تئیں ہمدردی رکھنے والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھگوا دہشت گردی تصور کے لئے سابق مرکزی وزیر داخلہ اور کانگریس لیڈر پی چدمبرم کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ نکسل ازم کشمیر کے دہشت گردوں کے مقابلے میں زیادہ خوفناک ہے اور وہ ملک کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔